Urdu |link|: History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In

۱۹۳۳ء میں چودھری رحمت علی نے اپنے کتابچے "ابھی یا کبھی نہیں" (Now or Never) میں الگ مسلم ریاست کے لیے لفظ "PAKISTAN" تجویز کیا۔

6۔ خطبہ الٰہ آباد اور گول میز کانفرنسیں

یہ تاریخ میں پہلی اور آخری بار تھا جب کانگریس اور مسلم لیگ نے مشترکہ آئینی مطالبہ پیش کیا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

پاک و ہند کی تاریخ میں 1857ء سے 1947ء تک کا دور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ زمانہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری، جدوجہد اور بالاخر ایک آزاد وطن "پاکستان" کے حصول کی داستان ہے۔ ذیل میں اس طویل دورانیے کے اہم تاریخی واقعات کو تفصیلی نوٹس کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جنگِ آزادی 1857ء اور اس کے اثرات

1857 سے 1947 تک کی تحریکِ پاکستان کی تاریخ ایک عظیم جدوجہد کی داستان ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام پر منتج ہوئی۔ ذیل میں اس اہم دور کے اہم واقعات اور ارتقاء کا خاکہ (essay notes) پیش کیا گیا ہے: history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

: مسلم لیگ اور کانگریس نے جناح کے توسط سے ایک معاہدہ کیا، جس میں مسلمانوں کو علیحدہ انتخابات اور مخصوص نشستوں کی ضمانت دی گئی۔

پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) کی شکست کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں یہ تحریک شروع کی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

12۔ آخری مراحل اور آزادی (1945ء سے 1947ء)

تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور انگریزی اشیاء کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ تحریک بھی ناکام ہوئی اور ترکی میں خلافت ختم ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد ایک حصہ نے افغانستان کی طرف ہجرت کی جسے ہجرت تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے。

لاہور کے منٹو پارک (اب اقبال پارک) میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک آزاد ریاست بنائی جائے۔

وائسرائے لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کے لیے بنگال کو دو حصوں (مشرقی اور مغربی بنگال) میں تقسیم کیا۔ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، اس لیے یہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے فائدہ مند تھا۔