جدید سائنسدانوں اور ماہرینِ خطاطی نے جب اس مسودے کا باریک بینی سے معائنہ کیا تو انہوں نے چند حیرت انگیز انکشافات کیے۔ ہینڈ رائٹنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری کتاب میں ایک ہی شخص کا طرزِ تحریر استعمال ہوا ہے اور روشنائی کی یکسانیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک ہی انسان کا کام ہے۔
کا مطلب ہے "کتاب" اور گیگاس کا مطلب ہے "دیو"۔ یہ کتاب 92 سینٹی میٹر لمبی، 50 سینٹی میٹر چوڑی اور 22 سینٹی میٹر موٹی ہے۔ اس کا وزن 74.8 کلوگرام ہے اور یہ 310 صفحات پر مشتمل ہے، جو 160 گدھوں کی کھالوں سے تیار کیے گئے تھے۔ یہ کتاب قرون وسطیٰ کی سب سے بڑی اور عجیب و غریب مخطوطہ ہے جسے دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی اور بھاری ہے۔
یقیناً یہ ایک افسانہ ہے۔ جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ محض تحریر (calligraphy) کو مکمل کرنے میں کم از کم 5 سے 30 سال کا عرصہ لگتا، تصاویر اور دیگر زینت تو الگ۔ لیکن اس لیجنڈ نے اس کتاب کو ایک پراسرار اور خوفناک شہرت دے دی ہے۔
شیطان نے اپنی روح کے عوض اس کی مدد قبول کر لی۔ راہب اور شیطان نے مل کر پوری کتاب مکمل کر ڈالی۔ جو آج بھی اس کتاب کی زینت ہے۔ codex gigas book in urdu
کوڈیکس گیگاس تیرہویں صدی کے اوائل میں بوہیمیا (موجودہ چیک جمہوریہ) کی ایک خانقاہ میں لکھا گیا۔ اس کتاب کے وجود میں آنے کے پیچھے ایک انتہائی خوفناک اور دلچسپ کہانی مشہور ہے۔ روایت ہے کہ ایک راہب (Monk) نے خانقاہ کے اصولوں کی شدید خلاف ورزی کی جس کی سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چن دینے کا حکم سنایا گیا۔
یہ کتاب بوہیمیا (موجودہ چیک ریپبلک) کے Podlažice نامی قصبے میں واقع ایک بینیڈکٹائن خانقاہ میں لکھی گئی تھی۔ تاہم، یہ صدیوں تک ایک جگہ نہیں رکی۔ اسے اس کے کیbinet of curiosities (عجائبات کے کیbinet) کا حصہ بنا دیا گیا۔ 1648 میں تیس سالہ جنگ (Thirty Years' War) کے دوران، جب سویڈش فوج نے پراگ پر قبضہ کیا، تو یہ کتاب جنگی مالِ غنیمت کے طور پر سویڈن لے جائی گئی ۔
یہ کتاب طویل عرصے تک پراگ (Prague) میں رہی، لیکن 1648 میں تیس سالہ جنگ (Thirty Years' War) کے دوران، سویڈش فوج نے اسے چیکوسلوواکیہ سے چرایا اور اسے بطور جنگی مال لے گئے۔ codex gigas book in urdu
آج کے دور میں یہ کتاب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ، جہاں دنیا بھر سے لوگ اس تاریخی عجوبے کو دیکھنے آتے ہیں۔ خلاصہ
آج، یہ نایاب اور تاریخی کتاب سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں میں محفوظ ہے۔
کتاب کے صفحہ نمبر 290 پر شیطان کی وہ مشہور تصویر ہے جس میں اسے سبز چہرے، دو سینگوں اور چار انگلیوں والے ہاتھوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو ایک پنجرے جیسی جگہ پر کھڑا ہے۔ اس کے بالکل سامنے والے صفحے پر "جنت کی سلطنت" کی تصویر ہے، جو خیر اور شر (Good vs Evil) کے توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ کتاب کا سفر اور موجودہ مقام codex gigas book in urdu
हिप्पोक्रेट्स (Hippocrates) समेत प्राचीन डॉक्टरों के चिकित्सा नुस्खे और जड़ी-बूटियों की जानकारी।
کیا واقعی یہ کتاب ایک رات میں شیطان نے لکھی تھی؟ جدید دور کے سائنسدانوں اور گرافولوجسٹ (دستی تحریر کے ماہرین) نے اس کتاب پر گہری ریسرچ کی ہے۔
پوری کتاب میں لکھائی کا انداز بالکل ایک جیسا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ بہت ہی مختصر وقت میں لکھی گئی ہو، کیونکہ انسان کی عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی لکھائی میں تبدیلی آتی ہے، جو یہاں نظر نہیں آتی۔ کتاب کے اندر کیا لکھا ہے؟
ماہرین کے مطابق، اس کتاب کو لکھنے میں ایک شخص کو تقریبا 20 سے 30 سال لگ سکتے ہیں، اگر وہ دن رات کام کرے۔ ایک رات میں اسے لکھنا ناممکن ہے 0.5.2۔